سوقیانہ پن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گھٹیا پن، ابتذال۔ "کسی اور نے یہ گیت تصنیف کیا ہوتا تو لوگ اِسے چھچھورا پن اور سوقیانہ پن کہتے۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٦١٣ )

اشتقاق

عربی سے ماخوذ اسم صفت 'سوقیانہ' کے ساتھ 'پن" بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے مرکبِ وصفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٣٧ء کو "فلسفۂ نتائجیت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھٹیا پن، ابتذال۔ "کسی اور نے یہ گیت تصنیف کیا ہوتا تو لوگ اِسے چھچھورا پن اور سوقیانہ پن کہتے۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٦١٣ )

جنس: مذکر